گائیڈز

ٹیپ بال کرکٹ کے قوانین، اور ٹورنامنٹ کیسے کرایا جائے

ٹیپ بال کرکٹ کی کوئی ایک رول بک نہیں۔ ہر گراؤنڈ، ہر گلی اور ہر نائٹ ٹورنامنٹ اپنے انداز میں کھیلتا ہے۔ اس گائیڈ میں وہ قوانین ہیں جو زیادہ تر ٹیپ بال کرکٹ میں چلتے ہیں، وہ فیصلے جو آرگنائزر کو خود کرنے پڑتے ہیں، اور بغیر جھگڑے کے ٹورنامنٹ کرانے کا ایک آسان پلان۔

تحریر: Manage Cricket ٹیم · تازہ کاری

فہرست

ٹیپ بال کرکٹ کیا ہے

ٹیپ بال کرکٹ ایسی ٹینس بال سے کھیلی جاتی ہے جس پر بجلی کی ٹیپ کس کر لپیٹی گئی ہو۔ ٹیپ سے بال بھاری ہو جاتی ہے اور ہوا میں تیز آتی ہے، سخت سطح سے پھسل کر نکلتی ہے اور بولرز اسے سوئنگ بھی کرا لیتے ہیں، پھر بھی کسی کو پیڈز، گلووز یا ہیلمٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پاکستان بھر کی گلیوں، پارکوں، چھتوں اور فلڈ لائٹس والے ٹرف گراؤنڈز پر چھائی ہوئی ہے، اور اسی طرح کا کھیل، جسے اکثر ٹینس بال کرکٹ کہا جاتا ہے، بھارت میں اور جہاں جہاں جنوبی ایشیائی کھلاڑی آباد ہیں، وہاں بھی اتنا ہی مقبول ہے۔

چونکہ ٹیپ بال کا کوئی باقاعدہ نگران ادارہ نہیں، اس لیے قوانین آرگنائزر طے کرتا ہے۔ بنیاد کرکٹ کے قوانین (Laws of Cricket) ہی ہیں، اور ہر ٹورنامنٹ چھوٹے میچوں اور چھوٹے گراؤنڈز کے حساب سے ان میں اپنی تبدیلیاں کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں پہلے میچ سے پہلے لکھ لی جائیں۔

اوورز، کھلاڑی اور بال

ٹیپ بال کے عام فارمیٹس
سیٹنگزیادہ تر ٹورنامنٹس میں
فی ٹیم اوورز6، 8، 10 یا 12
فی ٹیم کھلاڑی8 سے 11، چھوٹے گراؤنڈز پر 6 یا 7
فی اوور بالز6
فی بولر اوورزعام طور پر کل اوورز کا پانچواں حصہ: 10 اوورز کے میچ میں 2
بالہر اننگز یا ہر میچ کے لیے نئی ٹیپ والی ٹینس بال

ٹیپ بال کا اصل مزہ ہی چھوٹے میچوں میں ہے: مختصر وقفے کے ساتھ 8 اوورز کا میچ ایک گھنٹے سے کافی کم وقت لیتا ہے، اس لیے ایک ہی شام میں پورا ناک آؤٹ ہو سکتا ہے۔ بال کا فیصلہ بھی پہلے سے کر لیں۔ کچھ آرگنائزرز ہر بال خود ایک ہی طرح ٹیپ کر کے دیتے ہیں، جس سے آدھی ٹیپ والی ان بالز پر جھگڑا نہیں ہوتا جو زیادہ سوئنگ ہوتی ہیں۔

مقامی قوانین جن پر پہلے اتفاق ضروری ہے

سب سے زیادہ جھگڑے انہی قوانین پر ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی صحیح یا غلط نہیں، بس ایک طریقہ چن لیں اور قرعہ اندازی سے پہلے ہر کپتان کو بتا دیں۔

  • ایل بی ڈبلیو: بہت سے ٹیپ بال ٹورنامنٹس ایل بی ڈبلیو کے بغیر کھیلے جاتے ہیں، کیونکہ نیوٹرل امپائرز کے بغیر اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ اسے رکھیں تو یہ بھی بتا دیں کہ فیصلہ کون کرے گا۔
  • وائیڈ: ٹیپ بال کے امپائرز عموماً لیگ سائیڈ پر سخت ہوتے ہیں۔ وائیڈ پر ایک رن ملتا ہے اور بال دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ قوانین کے مطابق جو بال ٹپہ کھا کر بیٹر کے سر کے اوپر سے گزرے، وہ بھی اب وائیڈ ہے۔
  • نو بال اور فری ہٹ: کمر سے اونچی فل ٹاس نو بال ہے۔ زیادہ تر ٹورنامنٹس اگلی بال پر فری ہٹ بھی دیتے ہیں، جس پر بیٹر صرف انہی طریقوں سے آؤٹ ہو سکتا ہے جو نو بال پر جائز ہیں، جیسے رن آؤٹ۔
  • باؤنسرز: بہت سے ٹورنامنٹس میں فی اوور ایک باؤنسر کی حد ہوتی ہے۔
  • لاسٹ مین اسٹینڈز: آخری سے پہلی وکٹ گرنے پر اننگز ختم ہونے کے بجائے آخری بیٹر اکیلا کھیلنا جاری رکھ سکتا ہے۔ ہماری لاسٹ مین اسٹینڈز گائیڈ میں بتایا گیا ہے کہ اس کی اسکورنگ کیسے ہوتی ہے۔
  • ریٹائرمنٹ: کچھ دوستانہ کپ میں بیٹر کو ایک طے شدہ اسکور، جیسے 30، کے بعد ریٹائر ہونا پڑتا ہے تاکہ زیادہ کھلاڑیوں کو بیٹنگ مل سکے۔
  • ٹائی: ناک آؤٹ میں ٹائی کا فیصلہ کرنے کا سب سے منصفانہ طریقہ سپر اوور ہے۔ اگر روشنی ختم ہو جائے تو اس کا متبادل بھی پہلے سے طے کر لیں۔

ٹیپ بال ٹورنامنٹ کیسے کرائیں

  1. فارمیٹ چنیں۔ ایک رات کے لیے سیدھا ناک آؤٹ بہترین ہے۔ پہلے گروپس اور پھر ناک آؤٹ رکھنے سے ہر ٹیم کو کم از کم دو یا تین میچ مل جاتے ہیں۔ کئی ویک اینڈز پر چلنے والے سیزن کے لیے لیگ مناسب ہے۔
  2. رولز شیٹ لکھیں۔ اوورز، کھلاڑی، بال، ایل بی ڈبلیو، وائیڈ، فری ہٹ، لاسٹ مین اسٹینڈز، ٹائی بریک (پوائنٹس، پھر نیٹ رن ریٹ) اور اوقات۔ اسے کپتانوں کے گروپ میں شیئر کر دیں۔
  3. قرعہ اندازی سے پہلے انٹری فیس جمع کریں۔ انعامات کا اعلان بھی اسی وقت کریں، تاکہ سب کو پتا ہو کہ وہ کس چیز کے لیے کھیل رہے ہیں۔
  4. اوقات کی منصوبہ بندی کریں۔ صرف اوورز کا نہیں، ٹاس اور اننگز بدلنے کا وقت بھی رکھیں، اور بارش یا لائٹ جانے کی وجہ سے لیٹ ہونے والے میچ کے لیے ایک ریزرو سلاٹ بھی رکھیں۔
  5. ہر میچ کے لیے ایک اسکورر رکھیں۔ ہر میچ کے لیے ایک فون کافی ہے۔ لائیو اسکور کا لنک اس بحث کو ختم کر دیتا ہے کہ کتنے رنز چاہئیں۔
  6. ٹیبل ایمانداری سے رکھیں۔ ہر میچ کے بعد پوائنٹس اور نیٹ رن ریٹ اسکور کارڈز سے اپڈیٹ کریں، یادداشت سے نہیں۔ ہماری نیٹ رن ریٹ گائیڈ میں پورا حساب دکھایا گیا ہے۔
  7. بڑے میچ اسٹریم کریں۔ گھر والے اور اسپانسرز فائنل دیکھنا بہت پسند کرتے ہیں، اور ٹرائی پوڈ پر لگا ایک فون کافی ہے۔ دیکھیں اپنے فون سے لائیو اسٹریم کیسے کریں۔
مثال: ایک رات کا ناک آؤٹ

8 ٹیمیں، فی ٹیم 8 اوورز، فی ٹیم 8 کھلاڑی، ایل بی ڈبلیو نہیں، نو بال کے بعد فری ہٹ۔

کوارٹر فائنلز: 4 میچ۔ سیمی فائنلز: 2۔ فائنل: 1۔ کل سات میچ۔

اگر ایک میچ تقریباً 45 منٹ کا ہو تو وقفوں سمیت رات پانچ گھنٹے سے کچھ زیادہ چلتی ہے۔

Manage Cricket کے ساتھ ٹورنامنٹ چلائیں

ٹورنامنٹ ایپ بالکل اسی کام کے لیے بنی ہے۔ ٹیپ بال، ٹینس بال یا ہارڈ بال چنیں، جتنے چاہیں اوورز، فی بولر اوورز، لاسٹ مین اسٹینڈز اور فری ہٹ سیٹ کریں، پھر ناک آؤٹ، گروپس اور ناک آؤٹ، لیگ یا ڈبل راؤنڈ رابن میں سے فارمیٹ چنیں۔ فکسچرز آپ کے لیے خود بن جاتے ہیں، ہر میچ کی بال بائی بال اسکورنگ ہوتی ہے چاہے سگنل کمزور ہوں، اور نیٹ رن ریٹ کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل ہر نتیجے کے بعد ایک پبلک پیج پر اپڈیٹ ہو جاتا ہے جسے آپ واٹس ایپ پر شیئر کر سکتے ہیں۔ پہلے کاغذ پر منصوبہ بنانا چاہتے ہیں؟ مفت اسکور کارڈ میکر اور پوائنٹس ٹیبل میکر کے لیے کسی اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں۔

سوال و جواب

ٹیپ بال میچ میں کتنے اوورز ہوتے ہیں؟

جتنے آرگنائزر طے کرے۔ زیادہ تر ٹیپ بال میچ فی ٹیم 6، 8، 10 یا 12 اوورز کے ہوتے ہیں، اس لیے ایک ہی شام میں کئی میچ ہو جاتے ہیں۔

کیا ٹیپ بال کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوتا ہے؟

یہ ٹورنامنٹ پر منحصر ہے۔ بہت سے ٹیپ بال ٹورنامنٹس ایل بی ڈبلیو کے بغیر کھیلے جاتے ہیں۔ یہ قانون پہلے میچ سے پہلے رولز شیٹ میں لکھا ہونا چاہیے۔

ٹیپ بال ٹیم میں کتنے کھلاڑی ہوتے ہیں؟

عام طور پر فی ٹیم 8 سے 11، اور چھوٹے گراؤنڈز پر کبھی کبھی 6 یا 7۔ آرگنائزر فیصلہ کرتا ہے اور ہر ٹیم کو پہلے سے بتا دیتا ہے۔