کرکٹ میچ کی اسکورنگ کیسے کریں: بنیادی باتیں
اسکورنگ ہی وہ طریقہ ہے جس سے میچ ریکارڈ بنتا ہے: ہر رن، ہر ایکسٹرا اور ہر وکٹ بال بائی بال لکھی جاتی ہے۔ یہ ابتدائی گائیڈ بتاتی ہے کہ کرکٹ کے موجودہ قوانین کے تحت ایک اسکورر کو کیا کچھ جاننا چاہیے، اور آخر میں ایک پورا اوور مثال کے طور پر حل کیا گیا ہے۔
تحریر: Manage Cricket ٹیم · تازہ کاری
فہرست
اسکورر کیا لکھتا ہے
ہر بال پر اسکورر تین چیزیں لکھتا ہے: کتنے رنز بنے، کس طرح بنے، اور کیا کوئی وکٹ گری۔ انہی اندراجات سے ہر بیٹر کے رنز اور کھیلی گئی بالز، ہر بولر کے اوورز، میڈنز، رنز اور وکٹیں، ایکسٹراز، فال آف وکٹس اور ٹیم کا ٹوٹل نکلتا ہے۔ اگر دو اسکورر اسکور بک رکھ رہے ہوں تو وہ ہر اوور کے آخر میں ایک دوسرے سے اپنے ٹوٹل ملا لیتے ہیں۔
لیگل بالز اور اوور
ایک اوور چھ لیگل بالز کا ہوتا ہے۔ وائیڈ یا نو بال لیگل بال نہیں، اس لیے وہ چھ میں شمار نہیں ہوتی اور اس کی جگہ ایک اور بال کرائی جاتی ہے۔ اسی لیے ایک اوور میں سات، آٹھ یا اس سے بھی زیادہ بالز ہو سکتی ہیں۔ اوور کب ختم ہوگا، یہ جاننے کے لیے اسکورر صرف لیگل بالز گنتا ہے۔
ایکسٹراز: وائیڈ، نو بال، بائی اور لیگ بائی
| ایکسٹرا | کیا ہوتا ہے | کیا بولر کے کھاتے میں؟ |
|---|---|---|
| وائیڈ | 1 رن، اور اس کے ساتھ بیٹرز جو رنز دوڑ کر لیں یا جو باؤنڈری ہو، سب وائیڈ میں گنے جاتے ہیں۔ بیٹر کی کھیلی گئی بال شمار نہیں ہوتی۔ | ہاں |
| نو بال | 1 رن نو بال ایکسٹرا کے طور پر۔ بیٹ سے بننے والے رنز بیٹر کو ملتے ہیں۔ بیٹر کی کھیلی گئی بال شمار ہوتی ہے۔ | ہاں، پینلٹی کا رن اور بیٹ سے بنے رنز |
| بائی | وہ رنز جو بال کے بیٹ اور جسم، دونوں سے نہ لگنے پر لیے جائیں۔ | نہیں |
| لیگ بائی | وہ رنز جو بال بیٹر کے جسم سے لگنے پر لیے جائیں، جب وہ بال کھیلنے یا اس سے بچنے کی کوشش کر رہا ہو۔ | نہیں |
| پینلٹی رنز | کسی خلاف ورزی پر 5 رنز، مثلاً بال کا زمین پر رکھے فیلڈر کے ہیلمٹ سے ٹکرانا۔ | نہیں |
دو باتیں نئے اسکوررز کو اکثر الجھا دیتی ہیں۔ اگر نو بال پر بائی یا لیگ بائی کے رنز لیے جائیں تو صرف ایک رن کی پینلٹی نو بال ایکسٹرا ہوتی ہے، باقی رنز بائی یا لیگ بائی میں جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی بال وائیڈ بھی ہو اور نو بال بھی، تو اسے نو بال ہی مانا جاتا ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت جو بال ٹپہ کھا کر سیدھے کھڑے بیٹر کے سر کے اوپر سے گزرے، وہ وائیڈ ہے۔
فری ہٹ
فری ہٹ کرکٹ کے قوانین (Laws of Cricket) کا حصہ نہیں۔ یہ ایک پلیئنگ کنڈیشن ہے جو پروفیشنل محدود اوورز کی کرکٹ میں استعمال ہوتی ہے اور زیادہ تر کلب اور ٹیپ بال ٹورنامنٹس نے بھی اپنا لی ہے۔ نو بال کے بعد اگلی بال فری ہٹ ہوتی ہے: اس پر بیٹر صرف انہی طریقوں سے آؤٹ ہو سکتا ہے جو نو بال پر جائز ہیں، جیسے رن آؤٹ۔ اگر فری ہٹ والی بال خود وائیڈ یا نو بال ہو تو فری ہٹ اگلی بال پر بھی برقرار رہتی ہے۔ فری ہٹ پر فیلڈرز اپنی جگہ نہیں بدل سکتے، سوائے اس کے کہ بیٹرز نے اینڈ بدل لیے ہوں۔ کلب جو دوسرے مقامی قوانین شامل کرتے ہیں، وہ ٹیپ بال کے قوانین کی گائیڈ میں ہیں، اور لاسٹ مین اسٹینڈز کی الگ گائیڈ موجود ہے۔
اسٹرائیک کس کے پاس ہے
- طاق رنز پر اسٹرائیک بدل جاتی ہے۔ 1 یا 3 رنز کے بعد بیٹرز اینڈ بدل چکے ہوتے ہیں، اس لیے اگلی بال دوسرا بیٹر کھیلتا ہے۔
- باؤنڈری پر نہیں بدلتی۔ چوکے یا چھکے کے بعد بیٹرز انہی اینڈز پر واپس آ جاتے ہیں جہاں سے انہوں نے شروع کیا تھا۔
- اوور ختم ہونے پر اینڈ بدلتا ہے۔ ہر اوور کے بعد اگلا اوور دوسرے اینڈ سے کرایا جاتا ہے، اس لیے عام طور پر نان اسٹرائیکر اینڈ والا بیٹر اگلی بال کھیلتا ہے۔
- شارٹ رن شمار نہیں ہوتا۔ اگر بیٹر اگلے رن کے لیے مڑتے وقت کریز تک نہ پہنچے تو وہ رن نہیں گنا جاتا۔ بیٹرز کسی رن کو بیچ میں چھوڑ کر بغیر پینلٹی کے واپس جا سکتے ہیں، لیکن جان بوجھ کر شارٹ رن لینے پر 5 رنز کی پینلٹی ہوتی ہے، اور پھر فیلڈنگ ٹیم کا کپتان طے کرتا ہے کہ اگلی بال کون کھیلے گا۔
وکٹیں، اور نیا بیٹر کہاں جاتا ہے
جب اسٹرائیکر کیچ آؤٹ ہو تو ناٹ آؤٹ بیٹر اسی اینڈ پر واپس جاتا ہے جہاں سے اس نے شروع کیا تھا، چاہے بال ہوا میں ہوتے ہوئے بیٹرز ایک دوسرے کو کراس کر چکے ہوں۔ یوں اسٹرائیک نئے بیٹر کو ملتی ہے، سوائے اس کے کہ کیچ اوور کی آخری بال پر ہوا ہو۔ یہ قانون 2022 میں کرکٹ کے قوانین میں شامل ہوا اور موجودہ ایڈیشن میں بھی موجود ہے۔ یہی اصول تب بھی لاگو ہوتا ہے جب اسٹرائیکر بولڈ، اسٹمپڈ، ایل بی ڈبلیو، ہٹ وکٹ یا بال کو دو بار مارنے پر آؤٹ ہو۔
رن آؤٹ کا معاملہ مختلف ہے: اگلی بال کون کھیلے گا، یہ اس پر منحصر ہے کہ وکٹ گرنے سے پہلے بیٹرز ایک دوسرے کو کراس کر چکے تھے یا نہیں۔ رن آؤٹ سے پہلے مکمل ہونے والے رنز گنے جاتے ہیں، جبکہ جس بال پر بیٹر کیچ آؤٹ ہو اس پر پینلٹی کے علاوہ کوئی رن نہیں جڑتا۔ بولڈ، کیچ، ایل بی ڈبلیو، اسٹمپڈ اور ہٹ وکٹ کی وکٹ بولر کے کھاتے میں جاتی ہے، لیکن رن آؤٹ کی نہیں۔
ایک اوور، بال بائی بال
بال 1: کوئی رن نہیں۔ لیگل بال 1۔ ٹوٹل 0۔
بال 2: A ایک رن لیتا ہے۔ لیگل بال 2۔ اب B اسٹرائیک پر ہے۔ ٹوٹل 1۔
لیگ سائیڈ پر وائیڈ، کوئی رن نہیں دوڑا گیا۔ لیگل بال نہیں۔ ٹوٹل 2۔
بال 3: B چوکا لگاتا ہے۔ لیگل بال 3۔ B اسٹرائیک پر ہی رہتا ہے۔ ٹوٹل 6۔
نو بال، B اس پر 2 رنز لیتا ہے۔ 1 نو بال ایکسٹرا اور 2 رنز B کے۔ لیگل بال نہیں، لیکن B کی کھیلی گئی بال شمار ہوتی ہے۔ ٹوٹل 9۔
بال 4، فری ہٹ: B چھکا لگاتا ہے۔ لیگل بال 4۔ ٹوٹل 15۔
بال 5: B کیچ آؤٹ۔ لیگل بال 5۔ نیا بیٹر C آتا ہے اور اسٹرائیک لیتا ہے۔
بال 6: C ایک رن لیتا ہے۔ اوور مکمل: 16 رنز، 1 وکٹ۔ اگلے اوور کی پہلی بال C کھیلے گا، دوسرے اینڈ سے۔
بولر: 1 اوور، 0 میڈن، 16 رنز، 1 وکٹ۔ B نے 4 بالز پر 12 رنز بنائے۔
فون پر اسکورنگ
کاغذ اب بھی کام آتا ہے، لیکن لیگل بالز کی گنتی بھول جانا یا یہ یاد نہ رہنا کہ اسٹرائیک پر کون ہے، بہت آسان ہے۔ Manage Cricket اسکورنگ ایپ یہ سارے قوانین آپ کے لیے خود لاگو کرتی ہے: آپ بس ٹیپ کریں کہ کیا ہوا، اور ایپ اسٹرائیک، اوور، ایکسٹراز اور ہر کھلاڑی کے اعداد و شمار سنبھالتی رہتی ہے، سگنل نہ ہو تب بھی، اور جس کے پاس لنک ہو وہ لائیو اسکور فالو کر سکتا ہے۔ کاغذ پر اسکور کیے گئے میچ کا اسکور کارڈ پرنٹ کرنا ہو تو مفت اسکور کارڈ میکر استعمال کریں۔